LANSA لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
LANSA لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 15 اپریل، 2015

بدلتے معیار



مصباح بالاگام والا
  


 فوٹو: by Nasha Ila


پچھلے دنوں اپنے ساتھیوں کے ساتھ  LANSA  کے ایک تحقیقی مطالعہ "عورتوں کے کھیتوں میں کام کے صحت اور بچوں کی نشونما پر اثرات" کے لیےابتدائی تحقیق کے دوران صوبہ سندھ کے دو علاقوں، شہداد پور اور بدین، کے گوٹھوں میں کچھ وقت گزارنے کا موقع ملا۔ ہماری اس تحقیق کا مقصد عورتوں کے کھیتوں میں کام  اوربچوں کی دیکھ بھال کے درمیان توازن کے نیوٹریشن (nutrition)،  یعنی صحت اور نشونما پر اثرات کی جانچ کرنا ہے۔ ابتدائی تحقیق کے دوران ہم نے غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والی عورتوں سے انٹرویو کیے، جن میں کم زمین کی ملکیت رکھنے والے ، بٹائی پرکام کرنے والے اور کھیت مزدوروں کے گھرانے شامل تھے۔  ہمارے سوالات دوران حمل احتیاط، شیرخوار اور چھوٹے بچوں کے کھلانے پلانے،صحت کی سہولیات کا حصول اور عورتوں میں بچوں کی پیدائش کے رجحان سے متعلق تھے ۔ صحت کے حوالے سے رائج طور طریقے اور سماجی رشتے اور رابطے خاص توجہ کا مرکز بنے۔

بدھ، 9 جولائی، 2014

پاکستان میں خو را ک کی فورٹیفیکیشن(Fortification) : ایک قابل عمل تجویز(حا لیہ جا ئزہ رپورٹ)

سمر زبیری



فوٹو: فرحین ایوب خان۔ آغا خان یورنیورسٹی


  DFIDپاکستان کے لیے MQSUNکی رہنما ئی میں تیا رکردہ حا لیہ رپورٹ پاکستان میں خو را ک کی فورٹیفیکیشن(Fortification)  کی تائید کرتی ہے۔ micronutrients کی کمی یا "پوشیدہ بھو ک" سے نمٹنے کے لیے مقا می تجزیےکی سخت ضرورت ہے۔    نیشنل نیوٹریشن سروے(NNS 2011) کے مطابق پاکستان میں پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کی نصف سے زیادہ تعداد انیمیا (خو ن کی کمی) اور وٹامنA  کی کمی کاشکارہے39 ، فیصد بچے زنک کی کمی کا شکار ہیں۔ جبکہ ماؤں کی نصف تعداد انیمیا کےمرض کا شکار ہے اور 42 فیصد  وٹامن A اور زنک کی کمی کا شکارہیں ۔

اس رپورٹ میں پاکستان میں خوراک کی فورٹیفیکیشن کے حوا لے سےکی گئی کاوشوں کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطا بق قا نون سازی کا فقدان اور کمزور ما نیٹرنگ اور تحقیق کا نظام اس ریگولیٹری ماحول میں بڑی کمزوری ہے، جبکہ نجی شعبہ کو مینوفیکچرنگ کی سطع پراضافی ان پٹز(inputs) کاحصول اور اندرونی کوالٹی کنٹرول کے نظام جیسی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ اس کےعلاوہ رپورٹ میں چار منتخب منصوبوں کے ممکنہ نفازاوران کےاثرات کا تعین کرتےہوئے جا ئزہ پیش کیا گیا ہے۔ منصوبے درج زیل ہیں:


1۔ گندم کےآٹےکی فولادکےساتھ فورٹیفیکیشن؛
2۔ خوردنی تیل کی وٹامن A اورD کےساتھ فورٹیفیکیشن؛ 
3۔ گندم کی فولاداورزنک کےساتھ بائیوفورٹیفیکیشن؛
4۔  کیمیائی کھا دوں کی زنک کےسا تھ فورٹیفیکیشن۔

ویسےتوان چاروں منصوبوں کا تعلق زراعت کےشعبہ سےہے۔ پہلےدو منصو بے زرعی اجناس میں مصنوعی طورپرmicronutrients کااضافہ کرتے ہیں اور رپورٹ کےمطابق یہ منصوبے وسیع پیمانے پرmicronutrients کی فراہمی کے لیےقابل عمل ہیں۔ جبکہ باقی دومنصوبوں کا تعلق براہ راست کھیتی باڑی سے ہے، یعنی اجناس میں بزات خود جدید ٹیکنا لوجی کے زریعے micronutrients کااضافہ، لیکن ان پرعمل کرنے سے پہلے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں جاری  LANSAکی تحقیق کاایک اہم سوال یہ ہے کہ زرعی ویلیوچین
(agri-food value chain) کونیوٹریشن کے فروغ کے لیےکس طرح مؤثربنایاجاسکتاہے؟ مجموعی طورپرہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ رپورٹ ہمارے اس تحقیقی مطالعہ کے لیے بنیادفراہم کرتی ہے۔
    
 LANSA پرمزیدپڑھنےکےلیےیہاں کلک کریں۔