gender لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
gender لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 15 اپریل، 2015

بدلتے معیار



مصباح بالاگام والا
  


 فوٹو: by Nasha Ila


پچھلے دنوں اپنے ساتھیوں کے ساتھ  LANSA  کے ایک تحقیقی مطالعہ "عورتوں کے کھیتوں میں کام کے صحت اور بچوں کی نشونما پر اثرات" کے لیےابتدائی تحقیق کے دوران صوبہ سندھ کے دو علاقوں، شہداد پور اور بدین، کے گوٹھوں میں کچھ وقت گزارنے کا موقع ملا۔ ہماری اس تحقیق کا مقصد عورتوں کے کھیتوں میں کام  اوربچوں کی دیکھ بھال کے درمیان توازن کے نیوٹریشن (nutrition)،  یعنی صحت اور نشونما پر اثرات کی جانچ کرنا ہے۔ ابتدائی تحقیق کے دوران ہم نے غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والی عورتوں سے انٹرویو کیے، جن میں کم زمین کی ملکیت رکھنے والے ، بٹائی پرکام کرنے والے اور کھیت مزدوروں کے گھرانے شامل تھے۔  ہمارے سوالات دوران حمل احتیاط، شیرخوار اور چھوٹے بچوں کے کھلانے پلانے،صحت کی سہولیات کا حصول اور عورتوں میں بچوں کی پیدائش کے رجحان سے متعلق تھے ۔ صحت کے حوالے سے رائج طور طریقے اور سماجی رشتے اور رابطے خاص توجہ کا مرکز بنے۔

جمعرات، 5 مارچ، 2015

DNA ٹیسٹ، انصاف کی تلاش

عائشہ خان


حالیہ شائع ہونے والی خبر کے مطابق سینیٹ کی مجلس قائمہ برائے انصاف اور قانون نے ملک میں جنسی زیادتی کے خلاف قانون میں ترامیم کی منظوری دے دی۔ ان ترامیم کے مطابق DNA ٹیسٹ کو جنسی زیادتی کے مقدمات میں ایک نہایت اہم حیثیت حاصل ھوگی۔ ان ترامیم میں یہ بھی تجویز کیا گیا کہ زیادتی کا شکار ہونے والے کے طبی معائنے کیلئے سرکاری ہسپتالوں کو مخصوص کیا جائے اور مقدمے کی سماعت کے دوران ہر قسم کی کردارکشی کو ممنوع قرار دیا جائے۔

پیر، 27 اکتوبر، 2014

تحفظ کا قانون یا قانون کا تحفظ



عائشہ خان


سپریم کورٹ آف پاکستان-Imposter TV

کچھ عرصے پہلے تک جب ابھی صوبائی اسمبلیوں نے گھریلو تشدد اور کام پر جنسی استحصال کے حوالے سے قانون سازی شروع نہیں کی تھی، 1961 کے مسلم عائلی قوانین (Muslim Family Laws Ordinances 1961) عورتوں کے لئے سب سے زیادہ ترقی پسند قوانین سمجھے جاتے تھے۔ MFLO  جن کو ایوب خان کی فوجی حکومت نے رائج کیا شروع سے ہی متنازع رہے۔ اس وقت بھی دائیں بازو کے مذہبی حلقوں سے آواز اٹھی کہ مسلمانوں کے ذاتی اور خاندانی مسائل شرعی نہ کہ سوِل قوانین کے زمرے میں آتے ہیں۔ ان قوانین کے رائج ہونے سے پہلے صرف برطانوی زمانے کے نامکمل مسلم عائلی قوانین کا ورثہ موجود تھا۔ جن کی جانچ پڑتال کرنے کے لئے 1953 میں راشد کمیشن بنایا گیا جس کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ آیا کہ اس وقت کے قوانین عورتوں کو معاشرے میں اسلامی اصولوں کے مطابق رتبہ دیتے ہیں کہ نہیں۔ اس کمیشن نے اپنے کام کا آغاز اس بنیاد سے کیا کہ چونکہ پاکستان ایک آزاد ریاست ہے اور اس مقصد کیلئے قیام میں آیا ہے کہ یہاں مسلمان اپنی زند گی اسلامی بنیادوں پر استوار کریں، لہذا اس مقصد کے حصول میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیئے۔